Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
159 - 308
بہ نیّتِ قضا دونوں صحیح ہیں۔
    (فتاوٰی رضویہ ،ج۸ص۱۶۱ )
    نوافِل کی جگہ قَضائے عمری پڑھئے
    قَضا نمازیں نوافِل سے اَہَمّ ہیں یعنی جس وقت نَفل پڑھتی ہے اُنہیں چھوڑ کر اُن کے بد لے قَضائیں پڑھے کہ بَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جائے البتّہ تراویح اور بارہ رکْعَتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ کی نہ چھوڑے۔
  (بہارِ شريعت حصہ۴ص۵۵، رَدُّالْمُحتَار،ج۱،ص۶۴۶)
فَجر و عَصر کے بعد نوافِل نہیں پڑھ سکتے
    نَماز ِ فَجر(کے پورے وقت میں یعنی صبحِ صادق سے لیکر طلوعِ آفتاب تک جبکہ) عَصر کے بعد وہ تمام نوافِل ادا کرنے مکروہِ( تحریمی) ہیں جو قَصداً ہوں اگر چِہ تَحِیّۃُ المسجِد ہوں، اور ہر وہ نَماز جو غیر کی وجہ سے لازِم ہو۔ مَثَلاً نَذر اور طواف کے نوافِل اور ہر وُہ نَماز جس کو شُروع کیا پھر اسے توڑ ڈالا ، اگر چِہ وہ فَجر اور عصر کی سنتّیں ہی کیوں نہ ہوں۔
                    (دُرِّمُختَار ،ج ۲ ،ص۴۴۔۴۵)
    قَضا کیلئے کوئی وقت مُعَیَّن نہیں عمر میں جب پڑھے گی بَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جائیگی۔مگرطُلُوع وغُرُوب اورزَوال کے وَقت نَمازنہيں پڑھ سکتی کہ ان وقتوں میں نَماز جائز نہیں۔
 (بہارِ شريعت حصہ۴ص۵۱،عالمگیری،ج۱،ص۵۲)
ظُہر کی چار سنّتیں رَہ جائیں تو کیا کرے؟
    اگرظُہر کے فرض پہلے پڑھ لئے تو دو رَکْعَت سنّتِ بعدِیہ ادا کر نے کے بعد
Flag Counter