| اسلامی بہنوں کی نماز |
کہ جب رکُوع ميں پور ی پَہُنچ جائے اُس وقت سُبحٰن کا ''سين ' ' شُر و ع کرے اور جب عظيم کا '' ميم'' ختم کر چکے اُس وقت رُکوع سے سر اٹھائے ۔ اسی طرح سَجدہ ميں بھی کرے۔ ايك تخفيف تویہ ہوئی اور دوسری یہ کہ فرضوں کی تيسری اور چوتھی رَکعَت ميں اَلحمد شريف کی جگہ فَقَط'' سُبحٰنَ اللہِ'' تين بار کہہ کر رُکوع کر لے ۔ مگر وِتر کی تينوں رَکْعَتوں ميں اَلحمد شريف اور سُورت دونوں ضَرور پڑھی جائيں ۔ تيسری تَخفيف یہ کہ قعدۂ اَخيرہ ميں تَشَھُّد يعنی اَلتَّحِيات کے بعد دونوں دُرُودوں اور دعا کی جگہ صِرف
'' اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ''
کہہ کر سلام پھير دے ۔ چوتھی تَخفيف یہ کہ وِتْر کی تيسری رَکعت ميں دعائے قُنُوت کی جگہ اللہُ اکبر کہہ کر فَقَط ايك بار يا تين بار
'' رَبِّ اغْفِر لِیْ''
کہے ۔
( مُلَخَّص از فتاویٰ رضویہ ج۸ص۱۵۷)
نمازِ قَصر کی قَضاء
اگر حالتِ سفر کی قَضانَماز حالتِ اِقامت ميں پڑھيں گی تو قَصر ہی پڑھيں گی اور حالتِ اِقامت کی قَضا نَماز سفر ميں قضا کريں گی تو پوری پڑھيں گی يعنی قصر نہيں کريں گی ۔
(عالمگیری ج۱ص ۱۲۱)
زمانۂ اِرتِداد کی نَمازیں
جو عورت مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ مُرتَد ہ ہوگئی پھر اسلام لائی تو زمانۂ اِرتِداد کی نَمازوں کی قَضا نہیں اورمُرتَد ہ ہونے سے پہلے زمانۂ اسلام میں جو نمازیں جاتی رہی