Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
154 - 308
توبہ کے تین رُکن ہیں
    صد رُالافاضِل حضرتِ علامہ سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ الھادی فرماتے ہیں:''توبہ کے تین رُکن ہیں : (1) اِعتِرا فِ جُرم(2) نَدامت(3) عزمِ ترک(یعنی اِس گناہ کوچھوڑنے کاپُختہ عہد)۔اگر گُناہ قابلِ تَلافی ہے تو اُس کی تَلافی بھی لازِم۔مَثَلاً تارِکِ صلوٰۃ (یعنی نَمازتَرک کر دینے والے)کی توبہ کیلئے نَمازوں کی قَضا بھی لازِم ہے ۔
      (خزائنُ العرفان ،ص ۱۲ ،رضا اکیڈمی بمبئی)
سوتے کو نَماز کیلئے جگانا کب واجِب ہے
     کوئی سو رہا ہے يا نَماز پڑھنا بھول گیا ہے تو جسے معلوم ہے اُس پر واجِب ہے کہ سوتے کو جگا دے اور بھُولے ہوئے کو ياد دلا دے ۔( ورنہ گنہگارہوگا)
(بہارِ شريعت ، حصہ۴ص۵۰)
 یا د رہے! جگانا یا یاد دلانااُس وَقت واجِب ہو گا جبکہ ظَنِّ غالِب ہو کہ یہ نَماز پڑھے گا ورنہ واجِب نہیں۔مَحارِم کو بے شک خود ہی جگا دے مگر نامَحرموں مَثَلاً دیور و جیٹھ وغیرہ کو مَحارِم کے ذَرِیعْے جَگوائے۔
جَلْد سے جَلْد قَضا کر لیجئے
     جس کے ذمّے قَضا نَمازيں ہوں اُن کا جلْد سے جلْد پڑھنا واجِب ہے مگر بال بچّوں کی پرورِش اور اپنی ضَروريات کی فَراہَمی کے سبب تاخير جائز ہے ۔ لہٰذا فُرصت کا جو وَقت ملے اُس ميں قَضا پڑھتی رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائيں۔
                 (دُرِّمُختَار ،ج۲،ص۶۴۶)
Flag Counter