Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
153 - 308
ادا، قَضا اور اِعادہ کی تعریفات
     جِس چيز کا بندوں کو حکم ہے اُسے وَقت ميں بجا لانے کو ادا کہتے ہيں اور وَقت خَتْم ہونے کے بعد عمل ميں لاناقَضا ہے اور اگر اس حکم کے بجا لانے ميں کوئی خرابی پيدا ہو جائے تو اس خرابی کو دُور کرنے کیلئے وہ عمل دوبارہ بجا لانا اِعادہ کہلاتا ہے وَقت کے اندر اندر اگرتَحريمہ باندھ لی تو نَمازقَضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے
( دُرِّمُختَار ج ۲ ص ۶۲۷۔۶۳۲)
 مگرنَمازِ فجر ' جُمُعہ اور عيدَين ميں وَقت کے اندر سلام پھِرنا لازِمی ہے ورنہ نَماز نہ ہو گی
(بہارِ شريعت حصّہ ۴ص۵۰)
بِلاعُذرِ شَرعی نَمازقَضا کر دينا سخت گناہ ہے اِس پر فرض ہے کہ اُس کی قَضا پڑھے اور سچّے دل سے توبہ بھی کرے، تو بہ ےيا  حَجِِّّ مقبول سے اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تاخيرکا گناہ مُعاف ہو جائیگا
( دُرِّمُختَار ج۲ص۶۲۶)
 توبہ اُسی وقت صحيح ہے جبکہ قَضا پڑھ لے اس کو ادا کئے بِغير توبہ کئے جانا توبہ نہيں کہ جو نَماز اس کے ذمّے تھی اس کو نہ پڑھنا تو اب بھی باقی ہے اور جب گناہ سے باز نہ آئی تو توبہ کہاں ہوئی ؟
(رَدُّالْمُحتَارج۲ص۶۲۷)
 حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے،تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، پیکرِ جودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرنے والا اس کے مثل ہے جواپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ٹَھٹّھا ( یعنی مذاق) کرتا ہے۔
              ( شُعَبُ الايمان ج۵ص۴۳۶ حديث ۷۱۷۸)
Flag Counter