بعض اسلامی بہنیں رات گئے تک گھروں میں جاگتی رہتی ہیں اوّل تو وہ عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی سوجانے کا ذِہن بنائیں کہ عشاء کے بعد بِلاوجہ جاگنے میں کوئی بھلائی نہیں۔اگر اتِّفاقیہ کبھی دیر ہو جائے تب بھی اور اگر خود آنکھ نہ کھلتی ہو جب بھی گھر کے کسی قابلِ اعتِمادمَحرم یا جو جگا سکے ایسی اسلامی بہن کو درخواست کر دے وہ نَمازِفَجْر کیلئے جگا دے۔ یا اِلارم والی گھڑی ہو جس سے آنکھ کُھل جاتی ہو مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسہ نہ کیا جائے کہ نیند میں ہاتھ لگ جانے یا سیل (CELL) ختم ہو جانے سے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے کا امکان رَہتا ہے ، دو یا حسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے۔سگِ مدینه عُفِیَ عَنْہُ سوتے وَقت حتَّی الامکان تین گھڑیاں سرہانے رکھتا ہے۔ تین عدد رکھنے میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَل اُس حدیثِ پاک پر عمل کی نیّت ہے جس میں فرمایا گیا ہے: