آنکھ نہ کھلنے کی صورت میں نَمازِ فجر '' قَضا'' ہو جانے کی صورت میں ''ادا'' کا ثواب ملے گا یا نہیں۔ اِس ضِمن میں میرے آقا اعلیٰحضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولئ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظيمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِئ سنّت ، ماحِیِئ بِدعت، عالِمِ شَرِيعت ، پيرِ طريقت،باعثِ خَير وبَرَکت، امامِ عشق و مَحَبَّت حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃالرحمن فتاویٰ رضویہ جلد8 صَفْحَہ 161 پر فرماتے ہیں:''رہا ادا کا ثواب ملنا یہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے اختِیار میں ہے ۔ اگراس(شخص) نے اپنی جانِب سے کوئی تَقصیر (کوتاہی)نہ کی ،صُبح تک جاگنے کے قَصد (یعنی ارادے)سے بیٹھا تھا اور بے اختِیار آنکھ لگ گئی تو ضَرور اُس پر گُناہ نہیں۔ رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: نیند کی صورت میں کوتاہی نہیں ،کوتاہی اس شخص کی ہے جو(جاگتے میں)نماز نہ پڑھے حتّٰٰی کہ دوسری نماز کاوقت آجائے۔