سرکارِ مدینۂ منوّرہ ، سردارِ مکَّۂ مکرَّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا: آج رات دو شَخص ( یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام) میرے پاس آئے اور مجھے اَرضِ مُقدّسہ میں لے آئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک شَخص لیٹا ہے اور اس کے سِرہانے ایک شَخص پتَّھر اُٹھائے کھڑا ہے اور پے در پے پتَّھر سے اُس کا سر کُچل رہا ہے، ہر بار کُچَلنےکے بعد سر پھر ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ میں نے فِرِشتوں سے کہا:
سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
یہ کون ہے؟ انہوں نے عَرْض کی: آگے تشریف لے چلئے (مزید مناظِر دِکھانے کے بعد) فِرِشتوں نے عَرض کی کہ پہلا شَخص جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دیکھا یہ وہ تھا جس نے قراٰن پڑھا پھر اس کوچھوڑ دیا تھااورفَرض نَمازوں کے وَقت سوجاتا تھا اِس کے ساتھ یہ برتاؤ قِیامت تک ہو گا۔
( مُلَخَّص ازصحیح بخاری حدیث۷۰۴۷،ج۴،ص۴۲۵)
قَبر میں آگ کے شُعلے
ایک شَخص کی بہن فوت ہو گئی ۔ جب اُسے دَفن کر کے لوٹا تو یاد آیا کہ رقم کی تَھیلی قَبْر میں گر گئی ہے چُنانچِہ قبرِستان آ کر تھیلی نکالنے کیلئے اُس نے اپنی بہن کی قَبْر کھود ڈا لی!ایک دل ہِلا دینے والا منظر اُس کے سامنے تھا، اُس نے دیکھا کہ