| اسلامی بہنوں کی نماز |
''سیِّدہ خدیجۃُ الکُبریٰ'' کے پندَرہ حُروف کی نسبت سے نَمازی کے آگے سے گزرنے کے بارے میں 15اَحکام
(1) ميدان اور بڑی مسجِد ميں نَمازی کے قدم سے مَوضَعِ سُجُود تک گزرناناجائز ہے۔ مَوضَعِ سُجود سے مُراد یہ ہے کہ قِيام کی حالت ميں سَجدہ کی جگہ نظر جَما ئے تو جتنی دُور تک نگاہ پھيلے وہ مَوضَعِ سُجُودہے ۔اس کے درميان سے گزرنا جائزنہیں۔
( عالمگیری ،ج 1 ،ص 104،دُرِّمُختارج 2ص479)
مَوضَعِ سُجود کا فاصِلہ اندازاً قدم سے لے کرتین گزتک ہے لہٰذا میدان میں نَماز ی کے قدم کے تین گز کے بعد سے گزرنے میں حَرَج نہیں
(قانون شریعت حصہ 1وّل ص 114)
(2) مکان اور چھوٹی مسجِد ميں نَمازی کے آگے اگر سُترہ ( يعنی آڑ) نہ ہو تو قدم سے ديوارِ قبلہ تک کہيں سے گزرنا جائز نہيں ۔
(عالمگيری، ج1،ص104)
(3)نَمازی کے آگے سُترہ يعنی کوئی آڑ ہو تو اُس سُترہ کے بعد سے گزرنے ميں کوئی حَرَج نہيں (اَيضاً ) (4) سُترہ کم از کم ايك ہاتھ ( يعنی تقريبا ً آدھا گز ) اُونچا اور انگلی برابر موٹا ہونا چاہئے
(دُرِّمُختارج 2ص484)
(5) دَرَخْتْ ' آدَمی اور جانور وغيرہ کا بھی سُترہ ہو سکتا ہے
(غُنْیہ ص367)
(6) انسان کو اِس حالت ميں سُترہ کيا جائے جبکہ اُس کی پيٹھ نَمازی کی طرف ہو کہ نَمازی کی طرف منہ کرنامنع ہے
(بہارِ شريعت حصہ3ص184)
(اگر نَماز پڑھنے والی کے چہرے کی طرف کسی نے مُنہ کیا تو اب کراہت نَمازی پر نہیں اُس مُنہ کرنيوالی پرہے)