(5)سَجدۂ تلاوت نَماز میں فورًا کرنا واجِب ہے اگرتاخیر کی تو گُنہگار ہوگی اورجب تک نَماز میں ہے یا سلام پھیرنے کے بعد کوئی نَماز کے مُنافی فعل نہیں کیاتو سجدۂ تلاوت کر کے سجدہ ٔ سَہْو بجالائے ۔
(دُرِّمُختَار، رَدُّالْمُحتَار،ج2،ص 704)
تاخیر سے مراد تین آیت سے زیادہ پڑھ لینا ہے کم میں تاخیر نہیں مگر آخِر سورت میں اگر سجدہ واقع ہے، مَثَلاً اِنْشَقَّتْ تو سورت پوری کر کے سجدہ کرے گی جب بھی حرج نہیں۔
(بہارِ شريعت حصہ4ص82مُلَخَّصاً )
(6) کافر یا نابالِغ سے آیتِ سجدہ سنی تب بھی سجدۂ تلاوت واجِب ہو گیا۔
(7) سجدۂ تلاوت کے ليے تحریمہ کے سوا تمام وہ شرائط ہیں جو نماز کے ليے ہیں مَثَلاً طہارت، استقبالِ قبلہ، نیت، وقت اس معنی پر کہ آگے آتا ہے(1) سِتْرِ عورت، لہٰذا اگر پانی پر قادر ہے تَیَمُّم کر کے سجدہ کرنا جائز نہیں۔
(دُرِّمُختَار ج 2 ص 699، بہارِ شريعت حصّہ 4 ص 80 )
(8) اس کی نیت میں یہ شرط نہیں کہ فلاں آیت کا سجدہ ہے
(1) اس کی تفصیل بہار شریعت حصہ ۴ میں ملاحظہ فرمالیجئے۔