(1)آیتِ سجدہ پڑھنے یاسُننے سے سجدہ واجِب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اِتنی آواز میں ہو کہ اگر کوئی عُذْر نہ ہو تو خود سُن سکے، سُننے والے کے لئے یہ ضَروری نہیں کہ بالقَصد سنی ہو،بِلا قصد سُننے سے بھی سَجدہ واجِب ہو جاتا ہے ۔
( بہارِ شريعت حصّہ 4 ص77،عالمگیری،ج 1،ص 132)
(2) کسی بھی زَبان میں آیت کا ترجَمہ پڑھنے اور سُننے والی پر سجدہ واجِب ہوگیا ، سننے والی نے یہ سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو کہ آیتِ سجدہ کا ترجَمہ ہے۔ البتّہ یہ ضَرور ہے کہ اسے نہ معلوم ہوتو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیتِ سجدہ کا ترجَمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہوتو اِس کی ضَرورت نہیں کہ سننے والی کو آیتِ سجدہ ہونا بتایا گیا ہو۔
(3)سجدہ واجِب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضَروری ہے لیکن بعض عُلَمائے مُتَأَخِّرِین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کے نَزدیک وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادّہ پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قَبل یا بعد کا کوئی لَفظ ملا کر پڑھاتوسجدۂ تِلاو ت واجِب ہوجاتاہے لہٰذا اِحتیاط