اَلتَّحِیَّات پڑھ کر سلام پھيرئیے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں بار التَّحِیَّا ت پڑھ کر دُرُ و د شريف بھی پڑھئے (12)قعدهٔ اولیٰ میں تَشَہُّد (تَ۔شَہ۔ہُد)کے بعد اتنا پڑھا
الَّلھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
توسَجدۂ سَہْو واجِب ہے اس وجہ سے نہیں کہ دُرُ و د شريف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سُکوت کیا (چپ رہی)جب بھی سَجدۂ سَہْو ہے جیسے قعدہ و رکوع وسُجود میں قران پڑھنے سے سجدۂ سَہْو واجِب ہے، حالانکہ وہ کلامِ الہٰی ہے۔
(بہارِ شريعت حصّہ4ص62،دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار،ج2ص657)
حضرتِ سيدنا امامِ اعظم ابو حنيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب ميں سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کادیدار ہوا سرکارِ نامدار صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے اِستفسار فرمايا: دُرُود شريف پڑھنے والے پر تم نے سَجدہ کيوں واجِب بتايا ؟ عرض کی: اس لئے کہ اِس نے بھول کر ( يعنی غفلت سے ) پڑھا۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے یہ جواب پسند فرمايا ۔ (اَیضاً)