| اسلامی بہنوں کی نماز |
کيا تونَماز لوٹانا واجِب ہے (اَيضاً)(3) جان بوجھ کر واجِب تَرک کيا تو سجدۂ سَہْوْ کافی نہيں بلکہ نَمازدوبارہ لوٹاناواجِب ہے۔(اَيضاً)(4)کوئی ايساواجِب تَرک ہواجو واجبا تِ نَماز سے نہيں بلکہ اس کا وُجُوب اَمْرِ خارِج سے ہو تو سجدۂ سَہْوْ واجِب نہيں مَثَلاً خلافِ ترتِيب قرآنِ پاک پڑھنا ترکِ واجِب ہے مگر اس کا تعلُّق واجِباتِ نَماز سے نہيں بلکہ واجِباتِ تِلاوَت سے ہے لہٰذا سجدۂ سَہْوْ نہيں(البتّہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہو تو اس سے توبہ کرے)
(رَدُّالْمُحتارج 2ص655)
(5) فَرض تَرک ہو جانے سے نَماز جاتی رَہتی ہے سجدۂ سَہْوْ سے اِس کی تَلافی نہيں ہو سکتی لہٰذا دوبارہ پڑھئے
(اَیضاً،غُنْیہ ص455)
(6) سنّتیں یا مُسْتَحَبّات مَثَلاً ثنا، تعوُّذ،تَسمِیہ ، اٰمين،تکبيرا تِ اِنتِقالات (یعنی سُجود وغیرہ میں جاتے اٹھتے وَقت کہی جانے والی اللہُ اکبر) اور تَسبيحات کے ترک سے سجدۂ سَہْوْ واجِب نہيں ہوتا ،نَمازہوگئی (اَیضاً)مگر دوبارہ پڑھ لينا مُسْتَحَب ہے،بُھول کر ترک کيا ہو يا جان بوجھ کر
(بہارِ شريعت حصہ4ص58)
(7) نَماز ميں اگرچِہ دس واجِب ترک ہوئے ، سَہْو کے دو ہی سَجدے سب کیلئے کافی ہيں
(رَدُّالْمُحتارج2ص655،بهارِ شريعت حصہ 4 ص 59 )
(8) تَعدِيل اَرکان(مَثَلاًرُکوع کے بعد کم از کم ایک بارسبحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا یا دو سَجدوں کے درمیان ایک بار سُبحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئی سجدۂ سَہْو واجِب ہے
(عالمگيری ج1ص127)
(9)قُنوت يا تکبير قُنوت(یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراء َت کے بعد قنوت کے ليے جو تکبیر کہی جاتی ہے وہ اگر) بھول گئی سجدۂ سَہْوْ واجِب ہے
( اَیضا ًص