(10)کمر پر ہاتھ رکھنا۔ نَماز کے علاوہ بھی ( بِلا عُذر) کمر ( یعنی دونوں پہلوؤں ) پر ہاتھ نہيں رکھنا چاہئے
ا للہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:''کمر پرنَماز میں ہاتھ رکھنا جہنّمیوں کی راحَت ہے''
(شَرحُ السُّنَّۃِ لِلْبَغَوِیّ ،ج2 ص 313 حديث 731)
یعنی یہ یہودیوں کا فِعل ہے کہ وہ جہنّمی ہیں ورنہ جہنَّمیّوں کیلئے جہنَّم میں کیا راحت ہے!
(حاشیہ بہارِ شریعت حصّہ 3 ص86ا )
(11) نِگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا
(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 194)
اللہ عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:''کیا حال ہے اُن لوگوں کا جونَماز میں آسمان کی طرف آنکھیں اُٹھا تے ہیں اِس سے باز رہیں یا اُن کی آنکھیں اُچک لی جائیں گی۔''
(صَحِیحُ البُخارِی ،ج1ص265حدیث750 )
(12) اِدھر اُدھرمُنہ پَھير کر ديكھنا ،چاہے پورا مُنہ پِھرايا تھوڑا ۔مُنہ پھيرے بِغير صِرف آنکھيں پِھرا کر اِدھر اُدھر بے ضَرورت ديكھنا مکروہِ تنزيہ ہے اورنادِراً کسی غَرَضِ صحیح کے تَحت ہو تو حَرَج نہيں
(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 194)
سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صلی