(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتارج 2ص493)
(8) نَماز ميں اُنگلياں چَٹخانا ۔
خاتمُ المُحَقِّقِین،حضرتِ علامہ ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں :ابنِ ماجہ کی روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرما یا:'' نَماز میں اپنی اُنگلیاں نہ چٹخایاکرو۔''
(سُنَن ابن ماجہ ج1ص514حدیث965)''
مجتبیٰ ''کے حوالے سے نَقل کیا ، سلطانِ دوجہان، شَہَنْشاہِ کون ومکان، رَحمتِ عالَمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ''اِنتِظارِ نَماز کے دَوران اُنگلیاں چَٹخانے سے مَنع فرمایا ۔''مزید ایک روایت میں ہے :''نَماز کیلئے جاتے ہوئے اُنگلیاں چٹخانے سے مَنع فرمایا ۔''ان احادیثِ مبارَکہ سے یہ تین اَحکام ثابت ہوئے(الف) نَماز کے دَوران مکروہِ تحریمی ہیں۔اورتَوابِعِ نَماز میں مَثَلاً نَماز کیلئے جاتے ہوئے، نَماز کااِنتظار کرتے ہوئے بھی اُنگلیاں چٹخانا مکروہ ہے
(بہارِ شریعت حصّہ 3 ص193 مکتبۃ المدینہ)
(ب)خارجِ نَماز میں (یعنی توابعِ نَماز میں بھی نہ ہو ) بِغیر حاجت کے اُنگلیاں چٹخانا مکروہِ تنزیہی ہے (ج) خارجِ نَماز میں کسی حاجت کے سبب مَثَلاً