Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
118 - 308
پے نہ ہو تو نَماز فاسِد نہ ہوئی مگر مکروہ ہے۔
(عالمگيری،ج1ص103،غُنْیہ، ص448)
نَماز میں کُھجانا
    (27) ايك رُکن ميں تين بارکُھجانے سے نَماز فاسِد ہو جاتی ہے يعنی يوں کہ کُھجا کر ہاتھ ہٹا ليا پھر کُھجا يا پھر ہٹا ليا یہ دو بار ہوا اگر اب اسی طرح تيسری بار کيا تو نَمازجاتی رہے گی ۔ اگر ايك بار ہاتھ رکھ کر چند بار حَرَکت دی تو یہ ايك ہی مرتبہ کُھجانا کہا جائیگا ۔
 (اَیضاًص104،اَیضاً )
میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نَمازمیں کھجانے کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں:(نماز میں اگر کھجلی آئے تو) ضبط کرے، اور نہ ہو سکے یا اس کے سبب نَماز میں دل پریشان ہو تو کُھجا لے مگر ایک رُکن مَثَلاً قیام یا قُعُودیا رُکوع یا سجود میں تین بار نہ کھجاوے ، دو بار تک اجازت ہے۔
   ( فتاوٰی رضویہ ج7 ص384)
اللہُ اکبر کہنے میں غَلَطیاں
    (28) تکبيراتِ اِنتِقالات ميں اللہُ اکبرکے اَلِف کو دراز کيا يعنی اٰللہ يا اٰکبر کہا يا '' ب'' کے بعد اَلِف بڑھايا يعنی '' اکبار '' کہا تو نَماز فاسِد ہو گئی اور اگر تکبيرِ تحريمہ ميں ايسا ہوا تونَماز شُروع ہی نہ ہوئی
(دُرِّمُختَار،ج2، ص 473)
 (29) قِراءَ ت يا اذکارِ نَماز ميں ايسی غَلَطی جس سے معنیٰ فاسِد ہو جائيں نَماز فاسِد ہو جاتی ہے ۔ (بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 182)مَثَلاً
وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ
کے یہ معنی تھے (ترجَمۂ کنز الایمان :
Flag Counter