میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نَمازمیں کھجانے کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں:(نماز میں اگر کھجلی آئے تو) ضبط کرے، اور نہ ہو سکے یا اس کے سبب نَماز میں دل پریشان ہو تو کُھجا لے مگر ایک رُکن مَثَلاً قیام یا قُعُودیا رُکوع یا سجود میں تین بار نہ کھجاوے ، دو بار تک اجازت ہے۔
اللہُ اکبر کہنے میں غَلَطیاں
(28) تکبيراتِ اِنتِقالات ميں اللہُ اکبرکے اَلِف کو دراز کيا يعنی اٰللہ يا اٰکبر کہا يا '' ب'' کے بعد اَلِف بڑھايا يعنی '' اکبار '' کہا تو نَماز فاسِد ہو گئی اور اگر تکبيرِ تحريمہ ميں ايسا ہوا تونَماز شُروع ہی نہ ہوئی
(29) قِراءَ ت يا اذکارِ نَماز ميں ايسی غَلَطی جس سے معنیٰ فاسِد ہو جائيں نَماز فاسِد ہو جاتی ہے ۔ (بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 182)مَثَلاً
کے یہ معنی تھے (ترجَمۂ کنز الایمان :