Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
117 - 308
1ص102)
(21)نَماز سے قبل کوئی ميٹھی چيز کھائی تھی اب اس کے اَجزا منہ ميں باقی نہيں صِرف لُعابِ دَہَن ميں کچھ اثر رَہ گيا ہے اس کے نگلنے سے نَماز فاسِد نہ ہو گی
(عالمگيری ج1ص102)
 (22) منہ ميں شکر وغيرہ ہو کہ گھل کرحَلق ميں پہنچتی ہے نَماز فاسِد ہو گئی(اَيضاً)(23) دانتوں سے خون نکلا اگر تھوک غالِب ہے تو نگلنے سے فاسِد نہ ہو گی ورنہ ہو جائیگی
 ( عالمگيری ج1ص102)
 (غَلَبہ کی علامت یہ ہے کہ اگر حلْق ميں مزہ محسوس ہوا تونَماز فاسِد ہو گئی،نَماز توڑنے ميں ذائقے کا اِعتِبار ہے اور وُضو ٹوٹنے ميں رنگ کا لہٰذا وُضو اُس وَقت ٹوٹتا ہے جب تھوک سُرخ ہو جائے اور اگرتھوک زَرد ہے تو وُضو باقی ہے )
دَورانِ نَماز قِبْلہ سے اِنحِراف
    (24)بِلاعُذْر سينے کوسَمتِ کعبہ سے 45دَرَجہ يا اس سے زِيادہ پَھيرنا مُفِسدِ نَماز ہے، اگر عُذْر سے ہو تومُفْسِد نہيں ۔
(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 179، دُرِّمُختار ج 2 ص 468)
نَماز میں سانپ مارنا
    (25) سانپ بچھّو کو مارنے سے نَماز نہيں ٹوٹتی جبکہ نہ تين قدم چلنا پڑے نہ تين ضَرب کی حاجت ہو ورنہ فاسِد ہو جائے گی۔
 (عالمگيری ج1ص103)
سانپ ،بچھّو کو مارنا اُس وقت مُباح ہے جبکہ سامنے سے گزريں اور اِيذا دينے کا خوف ہو، اگر تکليف پہنچانے کا انديشہ نہ ہو تو مارنا مکروہ ہے (اَیضاً)(26) پے در پے تين بال اُکھيڑے يا تين جُوئيں مارِيں يا ايك ہی جُوں کو تين بار مارانَماز جاتی رہی اور اگر پے در
Flag Counter