(16) عملِ کثير نَماز کو فاسِد کر ديتا ہے جبکہ نہ نَماز کے اعمال سے ہو نہ ہی اِصلاحِ نماز کیلئے کيا گيا ہو ۔ جس کام کے کرنے والے کو دُور سے ديكھنے سے ايسا لگے کہ یہ نَماز ميں نہيں ہے بلکہ اگر گمان غالِب ہو کہ نَمازميں نہيں تب بھی عملِ کثير ہے ۔ اور اگر دُور سے ديكھنے والے کو شک و شبہ ہے کہ نَماز ميں ہے يا نہيں تو عملِ قليل ہے اورنَماز فاسِد نہ ہو گی۔
(دُرِّمُختار،ج2ص464)
دَورانِ نَماز لباس پہننا
(17) دَورانِ نَماز کُرتا يا پاجامہ پہننا يا تہبند باندھنا
(غُنْیہ، ص452)
(18) دَورانِ نَمازسِتْر کُھل جانا اور اسی حالت ميں کوئی رُکن ادا کرنا يا تين بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار وَقفہ گزر جانا۔
(دُرِّمُختار،ج2ص467)
نَمازمیں کچھ نِگلنا
(19) معمولی سا بھی کھانا يا پينامَثَلاًتِل بِغير چبائے نگل ليا ۔ يا قطرہ مُنہ ميں گرا اور نگل ليا
(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتارج 2ص462)
(20)نَمازشُروع کرنے سے پہلے ہی کوئی چيز دانتوں ميں موجود تھی اسے نگل ليا تو اگر وہ چنے کے برابر يا اس سے زيادہ تھی تونَماز فاسِد ہو گئی اور اگر چنے سے کم تھی تو مکروہ۔
(دُرِّمُختارج2ص462، عالمگيری ج