Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
115 - 308
 جماہی،کھانسی ،ڈَکار وغیرہ میں جتنے حُرُوف مجبوراً نکلتے ہیں مُعاف ہیں ۔
 (دُرِّمُختار، ج1ص456)
 (12) پھونکنے میں اگر آواز نہ پیدا ہو تو وہ سانس کی مثل ہے اورنَماز فاسِد نہیں ہوتی مگر قَصداً پُھونکنا مکروہ ہے اور اگر دوحَرف پیدا ہوں جیسے اُف،تُف تو نَماز فاسِد ہوگئی۔
(غُنْیہ، ص 451)
(13)کھنکارنے میں جب دو حُروف ظاہِر ہوں جیسے اَخ تو مُفسِدہے۔ ہاں اگرعُذْر يا صحيح مقصد ہو مَثَلاً طبيعت کا تقاضا ہو یا آواز صاف کرنے کیلئے ہو یاکوئی آگے سے گزر رہا ہو اس کو مُتوجِّہ کرنا ہو اِن وُجُوہات کی بنا پر کھانسنے ميں کوئی مُضایَقہ نہيں ۔
     (بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 176،دُرِّمُختار، ج2ص455)
دَورانِ نَماز دیکھ کر پڑھنا
    (14) مُصحَف(مُص۔حَف)شريف سے، يا کسی کاغذ وغيرہ ميں لکھا ہوا ديكھ کر قرآن شريف پڑھنا (ہاں اگر ياد پر پڑھ رہی ہيں اورمُصحَف شريف وغيرہ پر صرف نظر ہے تو حَرَج نہيں ، اگر کسی کاغذ وغيرہ پر آيات لکھی ہيں اسے ديكھا اور سمجھا مگر پڑھا نہيں اس ميں بھی کوئی مُضایَقہ نہيں )
 (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار،ج2ص463)
 (15)اسلامی کتاب يا اسلامی مضمون دَورانِ نَماز جان بوجھ کر ديكھنا اور اِرادتاً سمجھنا مکروہ ہے
(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 177)
دُنيوی مضمون ہو تو زِيادہ کراہِيت ہے ، لہٰذا نَماز ميں اپنے قريب کتابيں يا تحرير والے پيكٹ اور شاپنگ بيگ،موبائل فون ياگھڑی وغيرہ اس طرح رکھئے کہ ان کی لکھائی پر نظر نہ پڑے يا ان پر رومال وغيرہ اُڑھا ديجئے ، نيز دورانِ نَمازدیوار وغيرہ پر
Flag Counter