(4) چھينک کا جواب دينا (نَماز ميں خود کو چھينک آئے تو خاموش رہے )اگر خود کو چھینک آئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ ليا تب بھی حَرَج نہيں اور اگر اُس وقت حَمد نہ کی تو فارِغ ہو کر کہے۔ ( اَیضاً) (5) خوشخبری سن کر جواباً اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا (اَیضاًص 99 ) (6)بری خبر (يا کسی کی موت کی خبر ) سن کر
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
کہنا (اَيْضاً) (7)اذان کاجواب دينا ( اَیضاًص100)(8) اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام سن کر جواباً ''جَلَّ جَلَالُہٗ''کہنا (9) سر کارِ مدينہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کا اسمِ گرامی سن کر جواباً دُرُود شریف پڑھنا مَثَلاً صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کہنا
(اگر جل جلالہ يا صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم جواب کی نيّت سے نہ کہا تونَماز نہ ٹوٹی)
(10) دَرد يامُصيبت کی وجہ سے یہ الفاظ آہ ، اُوہ ، اُف ، تُف نکل گئے يا آواز سے رونے ميں حرف پيدا ہو گئے نماز فاسِد ہو گئی ۔ اگر رونے ميں صِرْف آنسو نکلے آوازو حُروف نہيں نکلے تو حَرَج نہيں ۔
( عالمگيری ج1ص101، رَدُّالْمُحتارج 2ص455)
(11) مریضہ کی زَبان سے بے اختیار آہ! اُوہ! نکلا نَماز نہ ٹوٹی یوں ہی چھینک ،