سیِّدُنا عمر بن عبدُ الْعَزیز کا عمل
حُجَّۃُ الاسلام حضرتِ سيدنا امام محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی نقل فرماتے ہيں:'' حضرتِ سيدنا عُمر بن عبدُالعزيزرضی اللہ تعالیٰ عنہ ہميشہ زمين ہی پرسَجدہ کرتے یعنی سَجدے کی جگہ مُصَلّیٰ وغيرہ نہ بچھاتے ''۔
(اِحياءُ ا لعُلُوم ،ج1،ص204)
حضرتِ سیِّدُنا واثِلہ بن اَ سْقَع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حُضُور سراپا نور ،شاہِ غَیورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کافرمانِ پُر سُرور ہے:'' تم میں سے کوئی شخص جب تک نَماز سے فارِغ نہ ہوجائے اپنی پیشانی (کی مٹّی)کو صاف نہ کرے کیونکہ جب تک اُسکی پیشانی پرنَماز کے سَجدے کا نشان رہتاہے فِرِشتے اُس کے لیے دُعائے مغفِرت کرتے رہتے ہیں۔''
( مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج2ص311حديث 2761)
اسلامی بہنو ! دَورانِ نَماز پيشانی سے مِٹّی چُھڑانا بہتر نہيں اور مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تَکَبُّر کے طور پر چُھڑانا گناہ ہے ۔اور اگر نہ چھڑانے سے تکلیف ہوتی ہو یا خیال بٹتا ہو تو چھڑانے میں حرج نہیں۔ اگر کسی کو رِيا کاری کا خوف ہو تو اسے چاہئے کہ نَماز کے بعد پيشانی سے مٹّی صاف کر لے ۔