*سَجدے ميں پَيشانی جَمنا ضَروری ہے ۔ جمنے کے معنیٰ یہ ہيں کہ زمين کی سختی محسوس ہو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کيا کہ پيشانی نہ جمی تو سجدہ نہ ہو گا۔ (اَیضاً ص81، 82) * کسی نَرم چيزمَثَلاً گھاس (جيسا کہ باغ کی ہريالی ) رُوئی يا (فو م کے گدیلے یا)قالين (CARPET) وغيرہ پرسَجدہ کيا تو اگر پيشانی جم گئی يعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو سجدہ ہو جائے گا ورنہ نہيں
کمانی دار ( يعنی اسپرنگ والے ) گدّے پر پيشانی خوب نہيں جمتی لہٰذا نَمازنہ ہو گی ۔
کا رپیٹ سے ایک توسَجدے میں دُشواری ہوتی ہے،نیز صحیح معنوں میں اِس کی صَفا ئی نہیں ہو پاتی لہٰذا دُھول وغیرہ جمع ہوتی اورجَراثیم پرورِش پاتے ہیں ، سَجدہ میں سا نس کے ذَرِیعہ جراثیم ،گرد وغیرہ اندر داخِل ہوجاتے ہیں،کارپیٹ کا رُواں پھیپھڑوں میں جاکرچِپک جانے کی صورت میں معاذاللہ عزَّوَجَلَّ کینسر کا خطرہ پیدا ہوتا ہے ۔ بَسا اوقات بچّے کارپیٹ پر قے یا پیشاب وغیرہ کرڈالتے ،بِلّیاں گندگی کرتیں،چُو ہے اور چھپکلیاں مینگنیاں کرتے ہیں۔ کار پیٹ ناپاک ہوجانے کی صُورت میں عُمُوماً پاک کرنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی ۔ کاش! کا رپیٹ بچھانے کا رواج ہی