ہوئیں کہ جب اجتماع میں جاؤ تو پہن لیا کرنا ۔ بہرحال میں نے بنتِ عطّار (اطال اللہ عمرھا)کے مبارک ہاتھوں سے اپنے سر پر مَدَنی برقع سجا لیا۔ جونہی میں مَدَنی برقع میں مَلْبُوس اپنے گھر واپس پہنچی گھر کے اَفراد نے مجھے کوسنا شروع کردیا اور مَدَنی برقع پہننے سے منع کیا ۔ایسا لگتا تھا گویا کسی نے بارُود چھڑک کر آگ لگا دی ہو۔ میں چونکہ پختہ اِرادہ کرچکی تھی اس لئے اپنی بات پر قائم رہی اور صَبْر وتَحَمُّل سے خاموش رہ کر اُن کی جلی کٹی سنتی رہی ۔ دُکان پر بیٹھنا بھی چھوڑدیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے گھر والوں کا بھی مَدَنی ذہن بن گیا ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے مجھے نمازوں کی پابندی، اجتماعات میں شرکت اور مَدَنی انعامات پر عمل میں استقامت نصیب ہوگئی۔ کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ مجھے زِیارتِ مکہ مکرمہ اورمیٹھے میٹھے مدینے شریف کی حاضری بھی نصیب ہوگئی۔یہ سطور لکھتے وقت میں علاقائی مشاورت کی رکن کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں میں مصروف ہوں۔