بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لب لباب ہے کہ بہت پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے محلے میں پان کی دُکان پر بیٹھا کرتی تھی۔زُبان دَراز بہت تھی، مردانہ انداز میں تُوتکار کرتی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنی عزت بچاتے ہی بنتی ۔ایک سے ایک گانا مجھے یاد تھا ۔شادیوں میں مجھے سے گاناگانے اور ڈانس کرنے کی فرمائشیں کی جاتی تھیں۔میں یونہی غفلت بھرے معمولات میں مگن تھی کہ ایک دن میرے نصیب جاگ اٹھے ۔ہوایوں کہ کسی طرح میں نے دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے وسیع وعریض تہہ خانے میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعمیں شرکت کی ۔وہاں پر بیانات،ذکر ،دُعا اورکم گو سنجیدہ مزاج اسلامی بہنوں کی صحبت نے مجھ پر وہ مَدَنی رنگ چڑھایا کہ میں نے مَدَنی برقع اوڑھنے کی ہاتھوں ہاتھ نیت کر لی۔ جب میں نے گھر پر اپنی والدہ سے اس بات کا اظہار کیا تو انہوں نے پان کی دُکان پر بیٹھنے کے پیشِ نظر منع کردیا مگر میرے اصرار پر صرف اس قدر راضی