عبادت) دوہی وقت کرنا چاہئے ''
ان عبارات کوسن کر اس آریہ کے لئے قائل ہونے کے سوا چارہ ہی کیا تھا؟ لہذا!اعتراف کرتے ہوئے معراج شریف والے سوال کا جواب چاہا۔اس کی نسبت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا ''اسے یوں سمجھو کہ ایک بادشاہ اپنے مملکت کے انتظام کے لئے ایک نائب مقررکرتاہے، وہ صوبہ دار یانائب 'بادشاہ کے حسبِ منشاء خدمات انجام دیتاہے ،بادشاہ اس کی کارگزاریوں سے خوش ہو کر اپنے پاس بلاتاہے اورانعام وخلعتِ فاخرہ عطافرماتا ہے نہ یہ کہ اسے بلا کر معطل کردیتاہے اوراپنے پاس روک لیتا ہے۔''یہ سن کر اس نے کہا کہ ''آپ نے میری پوری تشفی فرمادی اورمیری سمجھ میں خوب آ گیا، میں ابھی جاکر بیوی اوربچوں کو لاتا ہوں اورخود مسلمان ہوتا ہوں ، ان کو بھی مسلمان کراتاہوں۔''