(2)آپ کے نبی کو معراج کی رات خدا نے بلایا توپھر انہیں دنیا میں واپس کیوں کیا؟ وہ تواسے محبوب تھے ؟
(3)عبادت پانچ وقت کے متعلق ستیارتھ پرکاش کی عبارت دیکھنا مشروط ہوئی ۔
مذکورہ بالا سوالات سن کر اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے فرمایا ''میں تمھارے سوالوں کے جواب ابھی دیتا ہوں، مگر تم نے جووعدہ کیا ہے اس پر قائم رہو ۔'' اس نے کہا ''ہاں! میں پھر کہتاہوں کہ اگرمیرے سوالات کے جوابات آپ نے معقول دے دئیے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا اوربیوی بچوں کو بھی لا کر مسلمان کرادوں گا ۔''جب خوب قول وقرار اورپختہ وعدہ کرا لیا توآپ نے فرمایا ''پہلے سوال کاتوجواب یہ ہے کہ جو شے عین ضرورت کے وقت دستیاب ہوتی ہے ،اسکی وقعت دل میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالی نے اپنے کلام کوبتدریج(یعنی درجہ بدرجہ ) نازل فرمایا ۔''پھر فرمایا'' انسان بچہ کی صورت میں آتا ہے پھرجوان ہوتا ہے پھر بوڑھا ،اللہ تعالی توقادرتھا بوڑھا ہی کیوں نہ پیدافرمایا؟پھر فرمایا ''انسان کھیتی کرتاہے ،پہلے پودانکلتاہے پھرکچھ عرصہ بعد اس میں بالی آتی ہے اس کے بعد دانہ برآمد ہوتاہے ،وہ توقادرتھا کہ ایک دم غلہ کیوں نہ پیدافرمایا۔''اس کے بعد ستیارتھ پرکاش آگئی جس میں حسبِ ذیل عبارتیں موجودتھیں ۔
باب تیسرا (تعلیم)پندرہواں ہیڈنگ ''اگنی ہوتر(یعنی پوجا)صبح شام دوہی وقت کرے ''
باب چوتھا(خانہ داری )۶۳ہیڈنگ ''سندھیا (ہندوؤں کی صبح وشام کی