Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
97 - 200
ندامت سے نگاہیں جھکا لیں ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا ، ''جائیے ! آئندہ خیال رکھئے گا ۔''
(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۱۸۳)
(73) ایک آریہ پر انفرادی کوشش
   مولاناسید ایوب علی علیہ الرحمۃ کا بیان ہے کہ قبلِ ظہر حضرت استاذالعلماء مولانا مولوی حکیم نعیم الدین مرادآبادی وحضرت مولانا مولوی رحم الہی ( مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی)رحمھما اللہ اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی خدمتِ اقدس میں حاضرتھے کہ ایک آریہ (یعنی ہندو)آیا اورکہنے لگا'' میرے چند سوالات ہیں ،اگران کے جوابات دے دئیے گئے تو میں اور میری بیوی بچے سب مسلمان ہوجائیں گے ۔''چونکہ اذان ہوچکی تھی، نہ معلوم اس کے جوابات میں کتنا وقت صرف ہوگا ؟یہ سوچ کر اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا'' ہماری نماز کاوقت ہے، ٹھہر جاؤ ، اس کے بعد جوسوال کروگے ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا ۔''وہ کہنے لگا'' ایک سوال تویہی ہے کہ آپ کے یہاں عبادت کے پانچ وقت کیوں مقرر ہیں؟ پرمیشر کی عبادت جتنی بھی کی جائے اچھا ہے۔''مولانا نعیم الدین علیہ الرحمۃ نے فرمایا'' یہ اعتراض تو خود تمہارے اوپر بھی واردہوتاہے ۔''مولانا رحم الہی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ''میرے پاس (تمہارے مذہب کی کتاب)ستیارتھ پرکاش مکان پر موجود ہے ،ابھی منگوا کر دکھا سکتاہوں ۔''الغرض طے پایا کہ جب تک کتاب آئے 'نماز پڑھ لی جائے،وہ آریہ اتنی دیر پھاٹک پر بیٹھا رہا۔ نماز کے بعد اس نے مندرجہ ذیل سوالات پیش کئے ،

    (1)قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوا ؟ایک دم کیوں نہ آیا جبکہ وہ خداکا کلام ہے ،خدا تو قادر تھا کہ ایک ساتھ اتاردیتا ۔
Flag Counter