| اِنفرادی کوشش |
مجھے دے دیجئے ۔''میں نے اتار کر دے دئیے اور وہاں سے بمبئی چلاگیا۔بمبئی سے مارہرہ واپس آیا تو میری لڑکی فاطمہ نے کہا ''ابا بریلی کے مولانا صاحب (یعنی اعلیٰ حضرت قدس سرہ)کے یہاں سے پارسل آیا تھا ،جس میں چھلے اور انگوٹھی تھے اور والا نامہ(تحریری پیغام ) میں مذکور تھا ''شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیاء آپ کی ہیں (کیونکہ مردوں کو ان کا پہننا جائز نہیں)۔''
(حیات اعلی حضرت قدس سرہ،ص۱۰۵)
(71) مولوی صاحب پر انفرادی کوشش
امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بچپن میں ایک مولوی صاحب کے پاس پڑھا کرتے تھے ۔ایک روزمولوی موصوف حسب ِمعمول پڑھارہے تھے کہ ایک بچے نے انہیں سلام کیا ،مولوی صاحب نے جواب دیا ''جیتے رہو۔''اس پرآپ نے عرض کی ''یہ تو سلام کاجواب نہ ہوا،وعلیکم السلام کہنا چاہئے تھا ۔''مولوی صاحب سن کر بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔''
(حیات اعلیٰ حضرت ،ج۱، ص۶۳)
(72) طالب علم پر انفرادی کوشش
مولوی نور محمد صاحب جو بسلسلہ تعلیم، مجدد ِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے آستانہ میں مقیم تھے ،آپ نے ایک مرتبہ اپنے طالب علم ساتھی جو کہ سیِّد صاحب تھے اس طرح پکارا،''قناعت علی ، قناعت علی ۔'' یہ آواز جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی سماعتِ مبارکہ سے ٹکرائی تو آپ نے اِنہیں فوراً اپنے پاس بلایا اورسمجھایا ، ''کیا سیِّد صاحب کو اس طرح پکارتے ہیں ؟ کبھی مجھے بھی (باوجود استاذ ہونے کے)اس طرح پکارتے ہوئے سنا؟'' مولوی نورمحمد صاحب یہ سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور