بہار شریعت جیسی عظیم کتاب کے مؤلف صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ تک تدریس فرمائی لیکن پھر تدریس چھوڑ کر مطب شروع کر دیا (کیونکہ آپ حکیم بھی تھے)۔ جب آپ کے استاذ محترم مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ کو اس بات کا پتہ چلا تو بے حد غمگین ہوئے ۔ جب صدر الشریعہ بریلی کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے انہیں اعلیٰ حضرت ،مجددِ دین وملت الشاہ مولانا امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے نام ایک خط لکھ کر دیا جس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے صدر الشریعہ کو علمِ دین کی خدمت کی جانب متوجہ کرنے کی گزارش کی گئی تھی ۔
جب آپ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی بارگاہ میں محدث سورتی کا خط لے کر پہنچے تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے انہیں سمجھاتے ہوئے فرمایا ،''طبابت اچھا کام ہے کہ