Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
95 - 200
(69) صدر الشریعہ پر انفرادی کوشش
    بہار شریعت جیسی عظیم کتاب کے مؤلف صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ تک تدریس فرمائی لیکن پھر تدریس چھوڑ کر مطب شروع کر دیا (کیونکہ آپ حکیم بھی تھے)۔ جب آپ کے استاذ محترم مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ کو اس بات کا پتہ چلا تو بے حد غمگین ہوئے ۔ جب صدر الشریعہ بریلی کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے انہیں اعلیٰ حضرت ،مجددِ دین وملت الشاہ مولانا امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے نام ایک خط لکھ کر دیا جس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے صدر الشریعہ کو علمِ دین کی خدمت کی جانب متوجہ کرنے کی گزارش کی گئی تھی ۔ 

    جب آپ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی بارگاہ میں محدث سورتی کا خط لے کر پہنچے تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے انہیں سمجھاتے ہوئے فرمایا ،''طبابت اچھا کام ہے کہ
العلم علمان علم الادیان وعلم الابدان
(یعنی علم دو ہیں ، ایک دین کا علم اور ایک اجسام کا علم ) لیکن اس میں صبح سویرے قارورہ (یعنی پیشاب کا نمونہ)دیکھنا پڑتا ہے ۔''اس ارشاد میں جو روحانی تاثیر تھی ، صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا ، لہذا! آپ مطب چھوڑ کر بریلی شریف میں دینی کاموں میں مصروف ہوگئے ۔
(سیرتِ صدر الشریعہ، ص ۳۸)
(70) سونے کی انگوٹھی اور چھلے پہننے والے پر انفرادی کوشش
     حضرت مہدی حسن میاں علیہ الرحمۃ سجادہ نشیں سرکار کلاں مارہرہ شریف فرماتے ہیں کہ'' میں جب بریلی آتا تو اعلی حضرت علیہ الرحمۃ خود کھانا لاتے اور ہاتھ دھلاتے ۔ حسب ِدستور ایک بار ہاتھ دھلاتے وقت فرمایا ،''حضرت شہزادہ صاحب انگوٹھی اور چھلے
Flag Counter