| اِنفرادی کوشش |
ہیں؟''آپ نے فرمایا ،''اللہ تعالیٰ نے انہیں جس کام کے لئے مبعوث فرمایا تھا ،جب وہ اسے پورا کرچکے تو انہیں وفاتِ ظاہری دے دی ۔'' اس نے پھر پوچھا،''کیا آپ کے پاس ان کی کوئی نشانی بھی ہے ؟''شیخ نے فرمایا،''بے شک ان کی نشانی کتاب اللہ ہے۔'' پھر اسے قرآن مجید کی ایک سورۃ پڑھ کر سنائی جسے سن کر وہ اشکبار ہوگیا اور کہنے لگا،''جس کا یہ مقدس کلام ہے اس کی اطاعت تو دل وجاں سے کرنی چاہیے ۔'' اور شیخ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ۔
(روض الریاحین ، الحکایۃ الثالثۃ عشرۃ ،ص۸۳)
(67) امیر المؤمنین پر انفرادی کوشش
حضرت سَیِّدُنا یزید رقاشی رضی اللہ تعالی عنہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے فرمایا،''یا امیر المؤمنین !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔(یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا تھا۔) ''یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور عرض کرنے لگے ، ''کچھ اور بھی فرمائیے۔'' تو آپ نے کہا،'' اے امیر المؤمنین ! حضرت آدم ں سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباواجداد فوت ہوچکے ہیں ۔'' یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی ،''مزید کچھ بتائیے۔'' آپ نے فرمایا ، ''آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے۔(یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)