| اِنفرادی کوشش |
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ ایک جوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے اس سے پوچھا ، ''اے نوجوان! کیا تو پلِ صراط پار کر چکا ہے ؟'' اس نے عرض کی ،''نہیں ۔''فرمایا ،''کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے یا جہنم میں ؟'' اس نے کہا ، ''جی نہیں۔''تو آپ نے پوچھا،''پھر یہ ہنسی کیسی ہے ؟''اس کے بعد اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۷)
(66) بت پرست پر انفرادی کوشش
حضرت سَیِّدُناشیخ عبدالواحد علیہ الرحمۃ اپنے رفقاء کے ہمراہ سمندری سفر فرما رہے تھے ۔اچانک سمندر میں طوفان اٹھا اور ان کا جہاز ایک جزیرہ سے جالگا ۔ وہاں آپ کی ملاقات ایک بت پرست سے ہوئی ۔آپ نے اس پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے پوچھا ،''تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟'' اس نے اپنے بت کی طرف اشارہ کیا ۔ آپ نے فرمایا،''یہ بت جو خود کسی کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے ،کسی کا معبود نہیں ہوسکتا ،ایسا تو ہم بھی بنا سکتے ہیں ۔''اس نے پوچھا ،''آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں ؟''شیخ نے فرمایا ،''ہمارا معبود وہ ہے جس نے اس بت اور ساری کائنات کو تخلیق فرمایا ہے ،جس کا حکم زمین میں اور اختیار زندوں اور مُردوں پر جاری ہے ۔'' اس نے پوچھا ،''تمہیں یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوا ؟'' شیخ نے فرمایا ،''اس بادشاہ ِ حقیقی نے ہم میں ایک سچا رسول بھیجا جس نے ہمیں رب ل کی طرف بلایا ۔'' اس نے سوال کیا ،'وہ رسول کہاں