Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
91 - 200
 (63) بادشاہ کے دربار میں انفرادی کوشش
    خلیفہ  دمشق سلیمان بن عبدالملک اموی بڑے کروفر کا بادشاہ تھا ۔ اس نے ایک مرتبہ مشہور محدث امام طاؤس علیہ الرحمۃ کو دربار میں بلایا تو آپ نے فرمایا ،''کیا آپ کو معلوم ہے کہ سب سے زیادہ عذاب کس کو ہوگا ؟'' خلیفہ نے جواب دیا ،''آپ ہی ارشاد فرمائیے۔'' تو آپ نے یہ حدیث پڑھ کر سنائی ،''جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی سلطنت میں بادشاہی عطا فرمائی ،پھر اس نے ظلم کیا تو اس شخص کو قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب دیا جائے گا ۔''

    یہ سن کر خلیفہ لرز گیا اور چیخ مار کر رونے لگا حتی کہ روتے روتے تخت پر چت لیٹ گیا ۔
(مستطرف ، ج۱،ص۹۴)
 (64) خلیفہ منصور پر انفرادی کوشش
    ایک مرتبہ خلیفہ منصور مسجد ِ نبوی میں حاضرہوا اور امام مالک علیہ الرحمۃ سے گفتگو کرنے لگا ۔ اس دوران اس کی آواز کچھ بلند ہوگئی تو سیدنا امام مالک علیہ الرحمۃ نے اسے سمجھاتے ہوئے فرمایا،''اے امیرالمؤمنین ! رب تعالی کا ارشاد ہے کہ
''لَاتَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ
ترجمہ کنزالایمان : اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے(نبی)کی آواز سے ۔
 (پ۲۶،الحجرات:۲)
    (پھر فرمایا)''اے امیر المؤمنین !نبی کریم ا کا ادب واحترام اب بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ظاہری حیاتِ مبارکہ میں تھا ، اس لئے قبرانور کے پاس ہرگز بلند آواز سے گفتگو نہ کیجئے ۔'' یہ سن کر خلیفہ منصور بالکل خاموش ہوگیا پھر نہایت ہی پست آواز میں گفتگو کرنے لگا ۔
 (وفاء الوفاء ج۴،ص۱۳۷۶)
Flag Counter