خوراک بننا ہوگا یہاں تک کہ میری ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں گی ،۔۔۔۔۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد قیامت کا کٹھن مرحلہ بھی ہوگا ، میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد مجھے داخل ِ جنت ہونا نصیب ہوگا یا (معاذ اللہ )مجھے جہنم میں پھینک دیا جائے گا ،۔۔۔۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ کہ جسے اتنے خطرناک مراحل سے گزرنا ہو وہ کس طرح خوش رہ سکتا ہے ؟''
یہ باتیں سن کر بادشاہ بھی رنج وغم سے نڈھال ہوگیا اور گھوڑے سے اتر پڑا ۔ پھر اس نوجوان سے کہنے لگا ،''اے بندہ خدا! تمہاری باتوں نے میرا چین وسکون چھین لیا ہے اور میرے دل کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے ، ذرا اپنی باتوں کی وضاحت تو کرو۔'' اس نوجوان نے کہا ،
''میرے سامنے جمع شدہ ہڈیوں کو دیکھ رہے ہو ،یہ ان بادشاہوں کی ہڈیاں ہیں جنہیں دنیا نے اپنی زینت وآرائش میں الجھا کر فریب دیا اور ان کے دل پرچھائی رہی ، یہ فکر ِ آخرت سے غافل رہے حتی کہ انہیں موت نے آ لیا ،اس وقت ان کی آرزوئیں ناتمام رہ گئیں ،نعمتیں سلب کر لی گئیں ۔ عنقریب ان ہڈیوں کو پھر زندگی ملے گی ، پھر انہیں اپنے کئے کا بدلہ ملے گا اور یہ نعمتوں والے گھر جنت میں جائیں گے یا عذاب والے گھر دوزخ میں ۔''
اتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان بادشاہ کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ۔ دوسری جانب جب بادشاہ کے خدام اس کے پاس پہنچے تو اس کاچہرہ ملول اور آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔ جب رات ہوئی تو بادشاہ نے لباس ِ شاہی کو خیر آباد کہا اور دوچادریں جسم پر ڈال کر راہِ فقر میں نکل گیا ۔