| اِنفرادی کوشش |
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا،''مولا ل سے قوی کوئی نہیں اور بندے سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ،پھر بھی بندہ اس کی نافرمانی کرتا ہے۔''یہ سن کر وہ نوجوان چلا گیا ۔ دوسرے دن وہ پھرحضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے جسم پر صرف دو سفید کپڑے تھے ۔ اس نے عرض کی ، ''مجھے رب تبارک وتعالیٰ تک پہنچنے کا طریقہ بتا دیجئے ۔''آپ نے فرمایا،''اگر عبادت کرنا چاہتے ہو تو دن کوروزہ رکھو اور رات کو نوافل میں مشغول رہو ، اوراگر اللہ عزوجل کے طالب ہو تو اس کے سواء ہر ایک کو چھوڑ دو اسے پالوگے اور رہنے کے لئے مساجد ، ویرانوں اورقبرستانوں کو اختیار کرو(یعنی خلوت اختیار کرو) ۔ ''یہ سن کر اس نے کہا ،''واللہ ! میں تو وہی راہ اختیار کروں گا جو سب سے مشکل اور دشوار ہے ۔'' اور چلا گیا ۔
(روض الریاحین ،الحکایۃ الثامنۃ والاربعون بعدالمئۃ ،ص۲۲۸)
(62) ویرانے میں انفرادی کوشش
ایک بادشاہ جوشکار کے لئے نکلاتھا ،جنگل میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ۔ اس نے جنگل میں ایک جگہ کمزور'غم زدہ نوجوان کو دیکھا جو بیٹھا انسانی ہڈیوں کو الٹ پلٹ کر رہا ہے ۔ بادشاہ نے نوجوان سے پوچھا ،''تمہیں کیا ہوا؟اور اس سنسان ویرانے میں اکیلے کیا کررہے ہو ؟'' اس نوجوان نے جواب دیا ،
'' مجھے طویل سفر درپیش ہے ، دوموَکل (یعنی دن اور رات)میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف دلا کر آگے (یعنی موت )کی جانب دوڑا رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے تنگ وتاریک ، تکالیف سے بھرپور قبر ہے ،۔۔۔۔۔۔ آہ ! عنقریب مجھے زیر ِ زمین گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا ، ۔۔۔۔۔۔آہ! وہاں تنگی ووحشت کا بسیرا ہوگا ، مجھے کیڑوں کی