Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
88 - 200
 (60) خلاف ِسنت لباس پہننے والے پر انفرادی کوشش
    ایک جگہ حضرت شیخ سیدنا صلت بن اثیم رضی اللہ تعالی عنہ  اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ان کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کا پاجامہ زمین پر گھسٹ رہا تھا (جو کہ خلاف ِ سنت ہے )۔ آپ کے شاگردوں نے اس پراسے ڈانٹ ڈپٹ کرنا چاہی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا،''میں خود اس کی اصلاح کی کوئی تدبیر کرتا ہوں۔''پھر اس شخص کو پکار کر کہا،''بھائی ! مجھے تم سے کوئی کام ہے ۔'' اس نے پلٹتے ہوئے پوچھا ،''کیا کام ہے ؟'' آپ نے نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے انتہائی نرم لہجہ میں فرمایا،''پیارے بھائی ! اپنا پاجامہ ٹخنوں سے ذرا سا اوپر کر لو کہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا خلاف ِ سنت ہے ۔'' اس نے عرض کی ، ''بہت بہتر۔''اور اپنا پاجامہ ٹخنوں سے اوپر کر لیا۔
 (کیمیائے سعادت،جلد اول،ص۴۸۶ )
 (61) ایک نوجوان پر انفرادی کوشش
    حضرت سَیِّدُناسری سقطی رحمۃ اللہ علیہ ایک دن بغداد کی جامع مسجد میں بیان فرما رہے تھے کہ ایک خوش حال ، خوش پوشاک جوان اپنے دوستوں کے ہمراہ آیا اور بیان سننے لگا ۔ دورانِ بیان حضرت سری سقطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ،''حیرت ہے کہ کمزور کیسے قوی کی نافرمانی کرتاہے ؟'' یہ سن کر اس نوجوان کا رنگ فق ہوگیا اور وہ بیان سن کر چلاگیا۔ دوسرے دن وہ حضرت سری سقطی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ،''کل آپ نے فرمایا تھا کہ حیرت ہے کہ کمزور کیسے قوی کی نافرمانی کرتا ہے ، ذرا اس کا مطلب مجھے سمجھا دیں ۔''
Flag Counter