| اِنفرادی کوشش |
کروں؟ کس سے التجاء کروں ؟کس کی جانب دوڑوں ؟کس پر اعتماد کروں ؟
اے مالک و مولیٰ!میں اس لائق تو نہیں کہ تجھ سے جنت کا سوال کروں ،میں تو بس تیری شانِ کریمی سے محض اتنے کرم کا متمنی ہوں کہ میری مغفرت فرمادے۔''
حج کے بعد اس نے وہیں اقامت اختیار کر لی اور اسی طرح مشغولِ عبادت رہتے ہوئے دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔(روض الریاحین ،الحکایۃ السابعۃ عشرۃ،ص۸۸)
(59) طبیب پر انفرادی کوشش
حضرت سَیِّدُناشیخ شبلی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ بہت بیمار ہوگئے ۔ لوگ آپ کو علاج کے لئے ایک شفاء خانے لے گئے ۔ شفاء خانے میں بغداد کے وزیر علی بن عیسیٰ نے آپ کی حالت دیکھی تو فوراًبادشاہ سے رابطہ کیا کہ کوئی تجربہ کار معالج بھیجئے۔ بادشاہ نے ایک طبیب ِ حاذق کو بھیج دیا جو اپنے فن میں بہت ماہر تھا لیکن اس کا مذہب نصرانی تھا۔ اس نے شیخ کے علاج کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں لیکن آپ کو شفاء نہ ہوئی ۔ایک دن طبیب کہنے لگا ،''اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے پارہ گوشت سے آپ کو شفاء مل جائے گی تو اپنے بدن کا گوشت کاٹ کر دینا بھی مجھ پر کچھ گراں نہ ہوتا ۔''
یہ سن کر شیخ شبلی علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا،''میرا علاج اس سے بھی کم میں ہوسکتا ہے ۔'' طبیب نے دریافت کیا ،''وہ کیا؟'' ارشاد فرمایا، ''زُنّار(کمر میں باندھا جانے والا دھاگہ جو کہ عیسائیوں کی مذہبی علامت ہے) توڑ دے اور مسلمان ہوجا۔'' یہ سن کر اس نے عیسائیت سے توبہ کرلی اور مسلمان ہوگیا اور اس کے مسلمان ہونے پر شیخ شبلی علیہ الرحمۃ بھی تندرست ہو گئے ۔(روض الریاحین ، الحکایۃ الرابعۃ والثلاثون بعد المئۃ،ص۲۱۲)