Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
86 - 200
    ان پُر اثر کلمات کے باعث موسیٰ کے دل کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا،بے اختیاری میں تخت سے اترا اور اس نوجوان سے لپٹ کر رو پڑا،پھر تمام خدام و غلام وکنیزوں کو رخصت کر کے نوجوان کو ساتھ لئے گھر کے اندرونی حصے میں چلا گیا اور ایک بورئیے پر بیٹھ کر اپنی جوانی کے ضائع ہونے پر خود کو ملامت کرنے لگا ۔نوجوان اسے دلاسا دیتا اور اللہ تعالیٰ کی ستاری و غفاری یاد دلاتا رہا۔اسی عالم میں پوری رات گزر گئی۔جب صبح ہوئی تو موسیٰ نے سچی توبہ کی ،تازہ غسل کیا اور نوجوان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا ،عبادتِ الٰہی کو اپنا مقصد بنا لیا۔تمام مال و دولت ،سونا چاندی ،کپڑے وغیرہ صدقہ کر دئے ۔غلاموں کو فروخت و آزاد کر دیا۔لوگوں کے حقوق شمار کر کے ادا کر ڈالے۔موٹا لباس زیبِ تن کر لیا،شب بیداری کو شعار بنایا،دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر جاگ کر اللہ تعالیٰ کے حضور روتا ،گڑگڑاتا۔مجاہدہ و ریاضت میں اس قدر مشغول ہوا کہ دیکھنے والوں کو اس پر رحم آنے لگا ۔بڑے بڑے صلحاء و زہاد اس کی زیارت کو آتے اور اتنی سخت مشقت سے اسے روکتے۔جب وہ نصیحتیں سنتا تو اپنے گزرے غفلت کے ایام یاد کر کے خوب روتا ۔بالآخر وہ دن بھی آیا کہ ننگے پیر ،ایک معمولی سا لباس پہنے ،حجِ بیت اللہ کے اردے سے نکلا۔اس پاک سر زمین پر پہنچا تو دل کی کیفیت میں مزید انقلاب پیدا ہو گیا،اکثر حجر اسود کے پاس یہ مناجات کرتا ہوا نظر آتا،

    ''اے مالکِ بے نیاز!سینکڑوں خلوتیں غفلت میں گزر گئیں اور عمر کے کتنے ہی سال گناہوں میں ضائع ہوگئے ،نیکیاں تو جاتی رہیں بس حسرت و ندامت پاس رہ گئی ہے ۔جس روز تیری بارگاہ میں حاضری ہو گی تو کیا منہ دکھاؤں گا ؟

    اے میرے رب کریم!میں اب تیرے سوا کس کے سامنے اپنا دکھ بیان