تلاوت کرنے کے بعد نوجوان نے نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا ''اے فریب خوردہ!بھلا وہ نعمتیں کہاں اور تیری یہ مجلس کہاں ؟جنتی تخت کچھ اور ہی ہو گا ،اس پر نرم و نازک بستر ہوں گے ،جن کے استر استبرق کے ہوں گے ۔سبز قالینوں اور بستروں پر ٹیک لگائے لوگ آرام کرتے ہوں گے ۔وہاں دو نہریں ساتھ ساتھ بہتی ہیں ،وہاں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں ۔وہاں کے میوے کبھی ختم نہ ہوں گے اور نہ ان سے جنتیوں کو کوئی روکنے والا ہو گا۔اہلِ جنت ،جنت کے پسندیدہ عیش میں ہمیشہ رہیں گے ،وہاں انھیں کوئی ناگوار بات سنائی نہ دے گی ۔وہاں اونچے اونچے تختوں کے ارد گرد چمک دار آب خورے قطار سے رکھے ہوں گے ۔یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے لئے ہوں گی ۔ اور کافروں کے لئے کیا ہو گا ؟ان کے لئے آگ ہی آگ ہو گی ،آگ بھی ایسی کہ کبھی سرد نہ ہونے والی ،کافر اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کا عذاب کبھی موقوف نہ ہو گا ،وہ اس میں اوندھے منہ پڑے ہوں گے اور جب انھیں سر کے بل گھسیٹا جائے گا تو کہا جائے گا ''لو یہ عذاب چکھو۔''