کے بیٹھنے کے لئے بنایا گیا تھا ۔موسی اس پر شان و شوکت کے ساتھ بیٹھتا ،ارد گرد دوست احباب کی نشستیں ہوتیں ۔پشت پر خدام و غلام با ادب کھڑے ہوتے۔ قبے کے باہر گانے والوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی ،جہاں سے وہ نغمہ و سرور کے ذریعے اس کا اور اس کے دوستوں کا دل بہلاتے۔کبھی خوبصورت گانے والیاں بھی رونقِ مجلس بڑھاتیں ۔رات ڈھلے عیش و عشرت سے تھک کر کنیزوں میں سے جس کے ہمراہ چاہتا شب باشی کرتا ۔ دن کو شطرنج کی بساطیں جمتیں ۔کبھی بھولے سے بھی اس کی مجلس میں موت یا غم و آلام کا تذکرہ نہ چھڑتا۔اسی عالمِ سر مستی و شباب میں ستائیس سال گزر گئے۔
ایک رات وہ اسی طرح عیش و عشرت میں محو تھا کہ یکایک ایک درد ناک چیخ کی آواز ابھری ،جو گانے والوں کی آواز کے مشابہ تھی ۔اس آواز کا کانوں سے ٹکرانا تھا کہ محفل پر سناٹا چھا گیا ۔موسیٰ نے قبے سے سر نکالا اور آواز کا تعاقب کرنے لگا۔شراب و شباب کا یہ رسیا ،اس کرب ناک آواز کی تلخی کو برداشت نہ کر سکا ۔غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو تلاش کرو اور میرے پاس لاؤ۔غلام و خدام محل سے باہر نکلے ،انھیں قریبی مسجد میں ایک کمزور،لاغراورنحیف و نزار نوجوان ملا،جس کا بدن ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا،رنگ زرد،لب خشک ،بال پریشاں،دو پھٹی چادروں میں لپٹا ربِ کائنات کے حضور مناجات کر رہا تھا۔خادموں نے اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑا اور موسیٰ کے سامنے حاضر کر دیا ۔موسیٰ نے اس سے تکلیف کا سبب پوچھا۔نوجوان نے کہا دراصل میں قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہا تھا،دورانِ تلاوت ایک مقام ایسا آیا کہ اس نے مجھے بے حال کر دیا۔موسیٰ نے کہا ''وہ کون سی آیات تھیں میں بھی تو سنوں ۔''نوجوان نے تعوذ و تسمیہ کے بعد یہ آیات تلاوت کیں