منقول ہے کہ والی مصراحمدبن طولون بڑاہی سفّاک اورخون ریزبادشاہ تھا۔ مگراس کے باوجود اسے مقدمات میں ظالم اورمظلوم کے درمیان عدْل کرنے کا بڑا جذبہ تھا۔ایک دِن اس کالڑکاعباس ایک گانے والی عورت کے ساتھ چلا جارہا تھااوراُس کاغلام ہاتھ میں ''سِتار''لئے جارہاتھا۔جب ایک عالمِ باعمل نے یہ منظر دیکھا تو ایک دم نیکی کی دعوت پیش کرنے کاعظیم جذبہ ان کے سینے میں بیدارہوگیا۔غضب وجلال میں بے قرارہوکردوڑپڑے اورغلام کے ہاتھ سے''ستار''چھین کرزمین پراس طرح پٹخ دیاکہ وہ چورچورہوکربکھرگیا۔عبّاس نے غَضَب ناک ہوکراپنے باپ احمدبِن طُولُون کی کچہری میں اُس حقّانی عالم پرمقدمہ دائر کردیا۔
جب یہ پیکر ِعلم وعمل کچہری میں پہنچاتواحمدبن طولون نے آپ سے سوال کیا،''کیا واقعی تم نے ''ستار''کوتوڑاہے؟''آپ نے فرمایا ،'' جی ہاں۔''یہ جواب سن کر احمد بن طولون نے تیوربدل کربڑے غصے میں پوچھا،''کیاتمہیں معلوم تھاکہ وہ ستارکس کاتھا؟''آپ نے فرمایا،'' جی ہاں!وہ آپ کے فرزندعباس کاتھا۔''احمدبن طولون نے پوچھا،'' پھربھی تم نے میرے اعزازکاکچھ خیال نہیں رکھا؟''عالم صاحب اس کے رعب ِ شاہی کو ذرا بھی خاطر میں نہ لائے اور بھر پور خود اعتمادی سے نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے فرمایا ،
''عالی جاہ!یہ کیوں کرممکن ہوسکتا ہے کہ میں ایک گُناہ ہوتے ہوئے دیکھوں اور آپکے اِعزازکے خوف سے خاموش رہوں جب کہ اﷲعزوجل کافرمان عالیشان ہے