Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
81 - 200
چاہالیکن آپ نے منع فرمادیا کہ میں محض تمہاری دل جوئی کے لئے آیا ہوں ۔اس نے عرض کی کہ ،''اگرچہ میرا مال لٹ گیا لیکن تین باتیں لائق ِ شکر ہیں ،پہلی : یہ کہ دوسروں نے میرا مال لوٹا ،میں نے کسی کا مال غصب نہیں کیا، دوسری: یہ کہ اب بھی میرے پاس نصف دولت باقی ہے ،تیسری : یہ کہ میرا مذھب سلامت ہے ۔ ''

    یہ سن کر آپ نے اس سے پوچھا ،''تم آگ کی پوجا کیوں کرتے ہو؟''اس نے کہا ،''اس لئے کہ روزِ محشر جہنم کی آگ سے محفوظ رہ سکوں اور خدا عزوجل کا قرب بھی نصیب ہوجائے ۔'' آپ نے فرمایا ،''آگ کی حقیقت تو اتنی سی ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اس پر پانی ڈال دے تو بجھ جائے ، علاوہ ازیں تم ستّر سال سے اس کی پوجا کر رہے ہو لیکن اس نے آج تک تمہاری کیا رعایت کی ہے جس کی بنا پر تم قیامت میں اس سے بہتری کی امیدلگائے بیٹھے ہو ؟''آپ کی بات سے متأثر ہو کر اس نے عرض کی ،''اگر آپ میرے چار سوالوں کا جواب دے دیں تو میں اسلام قبول کر لوں گا ، پہلا: یہ کہ خدا عزوجل نے مخلوق کیوں بنائی ؟ دوسرا: تخلیق کرنے کے بعد اس کو رزق کیوں دیا ؟ تیسرا: رزق دینے کے بعد موت سے دوچار کیوں کیا؟ چوتھا: مارنے کے بعد زندہ کرنے کی کیا حاجت ہے ؟ '' 

    آپ نے جواب دیا ،'' مخلوق کو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ خالق کی پہچان ہو سکے ، رزق عطا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس کی رزّاقی کا اندازہ کیا جاسکے ، موت سے اس کی صفت جباری وقہاری کا اظہار مقصود ہے ، بعد ِ موت زندگی عطا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس کی قدرت کو تسلیم کیا جائے ۔''یہ کہہ کرآپ بہت دیر تک آگ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے رہے لیکن آپ کے دست مبارک پر آگ نے کچھ اثر نہیں کیا ۔ یہ دیکھ کر وہ آتش پرست فوراً مسلمان ہو گیا ۔
 (تذکرۃ الاولیاء،ج۱،صفحہ ۲۱۹)
Flag Counter