| اِنفرادی کوشش |
'' پھر ارشاد فرمایا: ''کیا کچھ اور بھی بتاؤں؟'' عرض کی: ''کیوں نہیں، ضرور بتائیے۔'' توارشاد فرمایا: ''دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والا ہو جااور اپنے ہر کام میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سچ کا معاملہ کر نجات پانے والوں کے ساتھ نجات پاجائے گا۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل دیئے۔ بعد میں اس نوجوان نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق پوچھا تو اسے بتایا گیا: ''یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی تھے۔''
(احیاء علوم الدین ج۱ ص۴۵ بتغیرٍ)
(54) اپنے دوست پر انفرادی کوشش
منقول ہے کہ بزرگانِ دین میں سے دو اشخاص آپس میں دوست تھے۔ان میں سے ایک خواہشِ نفس کے تحت کسی کے عشق میں مبتلاء ہو گیا اور اپنے دوست سے کہاکہ''میرا دل بیمار ہو گیا ہے ،اگر تو چاہتا ہے کہ مجھ سے محبت و دوستی کا تعلق ختم کر لے تو تجھے اس کا اختیار ہے ۔''اس کے دوست نے جواب دیا کہ ''معاذ اللہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صرف ایک گناہ کی وجہ سے میں تجھ سے رشتہئ دوستی منقطع کر لوں۔''پھر اس نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میرے دوست کو اس گناہ سے نجات عطا نہ کریگا ، میں کھانا نہ کھاؤں گا۔''
پھر وہ وقتاً فوقتاً اس سے پوچھتا رہتا کہ ''کیاحال ہے؟''وہ یہی جواب دیتا کہ ''بدستور مبتلائے مرض ہوں۔''یہ دوست مسلسل کھانے سے کنارہ کش رہااور غم میں اندر ہی اندر گھلتا رہا،آخر ِکاراس کا جذبہئ اصلاح، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہو گیا اور ایک دن وہ دوست اس کے پاس آیا اور خوشخبری سنائی کہ''الحمد للہ عزوجل!اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مرض سے نجات عطا کر دی ہے اور میرا دل معشوق کے عشق سے متنفر ہو گیا ہے ۔''جب اس نے یہ سنا تواللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیااور پھر کھانا کھایا۔(کیمیائے سعادت,ص۳۸۱)