حضرت سیِّدُنَا عبداللہ بن محمد بلوی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ''میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے ساتھ بغداد کے کسی علاقے میں تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نوجوان کودیکھاجو اچھے طریقے سے وضو نہ کر رہا تھا۔ تو اُسے ارشاد فرمایا: ''اے لڑکے! اپنا وضو ٹھیک کر، اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیاو آخرت میں تجھ پر احسان فرمائے گا۔''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ نوجوان نے جلدی سے وضو مکمل کیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملا۔وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہچانتا نہ تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور استفسار فرمایا: ''کیا کوئی کام ہے؟''عرض کی: ''جی ہاں! مجھے بھی وہ علم سکھائیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو سکھایاہے۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''جان لے! جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت پالی وہ نجات پاگیا۔جس نے اپنے دین کے معاملے میں خوف کیا وہ تباہی سے بچ گیا۔ جس نے دُنیا میں زُہد اختیار کیاتو کل (بروزِ قیامت)جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔'' (پھر فرمایا) ''کیا تجھے کچھ مزید نہ بتاؤں؟''اس نے عر ض کی: ''جی ہاں! ضرور بتائیے۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''جس میں تین خوبیاں جمع ہو گئیں اس کا ایمان مکمل ہو گیا: ٭جو نیکی کا حکم دے اور خود بھی اس پر عمل کرے ٭جو برائی سے منع کرے اور خود بھی اس سے بازرہے اور ٭جو حدودِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت کرے۔