یہ خط ایک مشفِق وناصح اور طبیب دوست کی طرف سے اس شخص کی طرف ہے جس سے حلاوتِ ذکر اور تلاوتِ قرآن کی لذت سلب ہو گئی ، جس کے دل سے خشوع اور اللہ عزوجل کا خوف جاتا رہا ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایک کنیز خریدی ہے جس کے بدلے اپنا ،''حصہ آخرت '' بیچ دیا ہے ،۔۔۔۔۔۔تم نے کثیر کو قلیل کے بدلے اور قرآن کو نغمات کے بدلے بیچ دیا،۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں ایسی شے سے ڈراتا ہوں جو لذّات کو توڑنے والی ، شہوتوں کو ختم کرنے والی ہے ،۔۔۔۔۔۔ جب وہ آئے گی تو تیری زبان گنگ ہوجائے گی ، اعضاء کی مضبوطی رخصت ہوجائے گی اورتجھے کفن پہنایا جائے گا ،۔۔۔۔۔۔ تیرے اہل وعیال اور پڑوسی تجھ سے وحشت کھائیں گے ،۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں اس چنگھاڑ سے ڈراتا ہوں جب لوگ بادشاہ جبار ل کی ہیبت سے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے ،۔۔۔۔۔۔ میرے بھائی !میں تمہیں اللہ عزوجل کے غضب سے ڈراتا ہوں ۔''
پھر یہ خط لپیٹ کر اس کے پاس بھیج دیا ۔ جب اس عابد کو یہ خط ملا وہ رقص وسرور کی محفل میں تھا ۔ یہ خط پڑھتے ہی اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا ۔ وہ ساری لذت بھول کر اس محفل سے اٹھا اور شراب وغیرہ کے برتن توڑ دئیے ۔کنیز کو آزاد کر نے کے بعد قسم کھائی کہ اب نہ کھانا کھائے گا اور نہ ہی سوئے گا ۔