Brailvi Books

اِنفرادی کوشش
73 - 200
(48) ایک کنیز کی انفرادی کوشش
    حضرت سیدنا عبداللہ بن مرزوق رضی اللہ تعالی عنہ  پہلے پہل دنیا ہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے شراب پی اور مدہوشی کی حالت میں مزامیر سننے میں مشغول رہے یہاں تک کہ ظہر ، عصر اور مغرب کی نماز بھی نہ پڑھ سکے ۔ حالانکہ ان کی کنیز ہر نماز کے لئے کہنے آتی رہی ۔ پھر جب نمازِعشاء کا وقت بھی نکلنے لگا تو وہ ایک انگارہ اٹھا لائی اور آپ کے پاؤں پر رکھ دیا ۔آپ شدتِ تکلیف سے تڑپ اٹھے اور پوچھا ،''یہ کیا ہے؟'' کنیز نے جواب دیا ،''یہ تو دنیا کی آگ ہے ،آخرت کی آگ کیسے برداشت ہو گی؟''یہ سن کر آپ بہت روئے اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ بعد میں اپنی دولت راہِ خدا عزوجل میں صدقہ کر کے یادِ الٰہی عزوجل  میں مشغول ہوگئے ۔
(کتاب التوابین ،ص۱۶۲)
 (49) غفلت کا شکار ہونے والے پر انفرادی کوشش
    حضرت علی بن حسین علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ ہمارا ایک پڑوسی بہت زیادہ عبادت گزار تھا ۔ وہ اس قدر نمازیں پڑھا کرتا کہ اس کے قدم سوج جاتے اور اتنا روتا کہ اس کی بینائی کمزور ہوگئی ۔ ایک مرتبہ اس کے گھر والوں اور لوگوں نے مل کر اسے شادی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ سن کر اس نے ایک کنیز خرید لی ۔ یہ کنیز نغمہ سرائی کی شوقین تھی لیکن اس عابد کو یہ بات معلوم نہ تھی ۔ایک دن عابد اپنی عبادت گاہ میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ کنیز نے بلند آواز میں گانا شروع کردیا ۔ گانے کی آواز سن کر عابد بے چین ہوگیا ۔ اس نے عبادت میں لگے رہنے کی بہت کوشش کی مگرناکام رہا ۔ آخر ِ کار کنیز اس سے کہنے لگی ،'' میرے آقا! تمہاری جوانی ڈھلنے کو ہے ، تم نے عین جوانی میں دنیا کی لذتوں کو چھوڑ دیا ، اب تو مجھ
Flag Counter