| اِنفرادی کوشش |
اور کوئی شخص تمہیں ایک گلاس پانی کے بدلے نصف حکومت بطور ِ معاوضہ طلب کرے تو کیا تم اسے قبول کر لو گے ؟'' خلیفہ نے جواب دیا ،''یقینا قبول کرلوں گا ۔'' پھر آپ نے دوسرا سوال کیا ،''اگر اس پانی کو استعمال کرنے کے بعد تمہارا پیشاب بند ہوجائے اور تمہیں شدید تکلیف محسوس ہو ، ایسے میں کوئی طبیب تم سے علاج کے معاوضہ میں آدھی سلطنت مانگے تب تم کیا کرو گے ؟'' ہارون رشید نے جواب دیا ،''میں آدھی سلطنت اس کے حوالے کردوں گا ۔'' یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا ، ''اس حکومت پر کیا اِترانا جس کی قیمت محض چند گھونٹ پانی اور اس کا پیشاب ہو ۔'' یہ جواب سن کر ہارون رشید بہت دیر تک روتا رہا اور بصد احترام آپ کو رخصت کیا۔
(تذکرۃ الاولیاء،ج۱،صفحہ ۱۴۰)
(47) ایک رئیس پر انفرادی کوشش
ایک رئیس ، حضرت سیدنا عثمان ِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے قلبی عناد رکھتا تھا اور (معاذ اللہ عزوجل ) آپ کو یہودی تک کہہ جایا کرتا تھا ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ اس سے فرمایا ، ''میں تیری بیٹی کی شادی ایک یہودی کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں ۔'' یہ سن کر اس نے غصے سے کہا ،''آپ مسلمانوں کے امام ہو کر ایسی بات کرتے ہیں ؟ میں تو ایسی شادی کو قطعاً حرام تصور کرتا ہوں ۔'' آپ نے فرمایا،'' تیرے حرام جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے جبکہ حضور اکرم ا نے اپنی دو صاحبزادیاں (معاذ اللہ عزوجل )ایک ''یہودی'' کے نکاح میں دے دیں ؟'' وہ رئیس آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا اشارہ سمجھ گیا اور توبہ کر کے اپنے برے خیالات سے باز آگیا۔
(تذکرۃ الاولیاء،ج۱،صفحہ ۱۷۹)