| اِنفرادی کوشش |
سے مزین تاج پہنے جنت کی سیر میں مصروف ہے ۔ جب آپ نے اس سے پوچھا کہ ،''تجھ پر کیا گزری ؟'' اس نے عرض کی ،''خدا عزوجل نے میری مغفرت فرما دی اور مجھے ایسے ایسے انعامات سے نوازا کہ میں بتا نہیں سکتا ، لہذا! اب آپ پر کوئی بار نہیں اوریہ عہد نامہ واپس لے لیجئے کیونکہ اب مجھے اس کی حاجت نہیں ۔'' جب آپ بیدار ہوئے تو وہ عہد نامہ آپ کے ہاتھ میں موجود تھا ۔ آپ نے اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
(تذکرۃ الاولیاء،ج۱،صفحہ ۴۱)
(46) خلیفہ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا شقیق بلخی رضی اللہ تعالی عنہ سفرِحج کے دوران جب بغداد پہنچے تو خلیفہ ہارون رشید نے آپ کی دعوت کی اور بہت احترام سے پیش آیا اور آپ سے کچھ نصیحتیں کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا،''تم خلفائے راشدین کے نائب ہو اور اللہ عزوجل تم سے علم وحیاء اور صدق وعدل کے بارے میں باز پرس کریگا ،۔۔۔۔۔۔ اس نے تمہیں شمشیر وتازیانہ اور دولت اس لئے عطاکئے کہ تم دولت کو ضرورت مندوں میں تقسیم کرو اور تازیانے سے شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دو اور تلوار کے ذریعے خون کرنے والوں کا خون بہا دو ،۔۔۔۔۔۔ اگر تم نے اس پر عمل نہ کیا تو روزِ حشر تمہیں اہل ِ جہنم کا سردار بنا دیا جائے گا ،۔۔۔۔۔۔ تمہاری مثال دریا جیسی ہے اور عُمّال وحُکّام اس سے نکلنے والی نہریں ہیں ،لہذا! تمہارا فرض ہے کہ عادلانہ طریقے سے حکومت کرو کہ اس کا عکس تمہارے ماتحت لوگوں پر بھی پڑے کیونکہ نہریں دریا کے تابع ہوا کرتی ہیں (یعنی جو کچھ دریا میں ہوتا ہے وہی نہروں میں آتا ہے ۔)''
پھر آپ نے خلیفہ سے سوال کیا ،''اگر تم ریگستان میں پیاس سے تڑپ رہے ہو