(41) ایک راہ گیر پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابویوسف فسولی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ شام جارہا تھا کہ راستے میں ایک شخص اچھل کر ان کے سامنے آیا اور سلام کرنے کے بعد عرض کرنے لگا ،'' اے ابویوسف ! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے جسے میں یاد رکھ سکوں ۔'' یہ سن کر آپ رو پڑے اور(نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے) فرمایا،'' اے بھائی ! بے شک شب وروز کا آنا جانا تیرے بدن کے گُھلنے ، تیری عمر کے ختم ہونے اور تیری موت کے آنے میں تیزی پیدا کرتا ہے ۔اس لئے میرے بھائی تمہیں چاہئیے کہ تم ہرگز مطمئن نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا ٹھکانہ کہا ں ہے ؟(جنت میں یا جہنم میں؟ )تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ (کامیابی یا ناکامی ؟) تمہارا رب ل تم سے تمہاری معصیت وغفلت کی وجہ سے ناراض ہے یا اپنے فضل ورحمت کے سبب تم سے راضی ہے ؟ اے ضعیف انسان!(یاد رکھ) تُو گزرے ہوئے ایام میں ایک ناپاک قطرہ تھا اور آنے والے وقت میں سڑے ہوئے مردار کی طرح ہوگا ۔ اگر تجھے یہ نصیحت کافی نہیں تو عنقریب وہ