ہارون اس نصیحت کو سن کر رونے لگا ،حتی کہ روتے روتے اس پرغشی طاری ہوگئی۔یہ حالت دیکھ کر فضل نے عرض کی،''حضرت!بس کیجئے،آپ نے تو امیر المؤمنین کو نیم مردہ کر دیا ۔''آپ نے ارشاد فرمایا،''اے ہامان!خاموش ہوجا،میں نے نہیں بلکہ تواور تیری جماعت نے ہارون کو زندہ درگور کر دیا ہے۔''یہ سن کر ہارون پر مزید رقت طاری ہوگئی ۔
جب کچھ افاقہ ہوا تو عرض کی،''حضورآپ پر کسی کا قرض تو نہیں ہے؟''...فرمایا،''ہاں،اللہ عزوجل کا قرض ہے اور اس کی ادائیگی صرف اطاعت سے ہی ہو سکتی ہے۔لیکن اس کی ادائیگی بھی میرے بس کی بات نہیں،میدان محشر میں میرے پاس کسی سوال کا جواب نہ ہوگا۔''ہارون نے عرض کی ،''میرا مقصد دنیاوی قرض سے تھا۔''آپ نے فرمایا،''اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے میرے پاس اتنی نعمتیں ہیں کہ مجھے کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔''
ہارون نے ایک ہزار دینا رکی ایک تھیلی آپ کی خدمت میں بطور ِنذرانہ پیش کرتے ہوئے عرض کی،''یہ رقم مجھے اپنی والدہ کے ورثے میں سے حاصل ہوئی ہے،اس لئے قطعاً حلال ہے،قبول فرما لیں تو کرم نوازی ہوگی۔''آپ نے فرمایا،''تجھ پر بے حد افسوس ہے ،میری ساری نصیحتیں بے کار گئیں۔میں تو تجھے نجات کا راستہ دکھا رہا ہوں اور تو مجھے ہلاکت میں گرانا چاہتا ہے۔یہ مال مستحقین کو ملنا چاہیئے اور تو اسے ایک غیرمستحق کو دے رہا ہے۔''یہ کہہ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔