ملا،''میں تو اجازت نہیں دیتا،ویسے بلااجازت اندرداخل ہونے میں تم دونوں مختار ہو۔''
جب یہ دونوں اندر داخل ہوئے، تو حضرت نے چراغ بجھا دیا تاکہ ان کی صورت نظر نہ آئے اور نماز میں مشغول ہوگئے۔فارغ ہوئے توہارون نے نصیحت کی درخواست کی۔آپ نے ارشاد فرمایا،''تمہارے والد ، سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے چچا تھے۔جب انہوں نے کسی ملک کا حکمراں بننے کی خواہش کا اظہار کیا، تورحمتِ عالم انے ارشاد فرمایا تھا،''میں تمہیں ، تمہارے نفس کا حکمران بناتا ہوں،کیونکہ دنیاوی حکومت توبروز ِقیامت ،وجہ ِندامت بن جائے گی۔''یہ سن کر ہارون نے عرض کہ''کچھ اور ارشاد فرمائیے۔''فرمایا،''جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو حکومت حاصل ہوئی تو انہوں نے کچھ ذی عقل لوگوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا کہ''مجھ پر ایک ایسے بار ِگراں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے،جس سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔''
یہ سن کر ان میں سے ایک نے مشورہ دیا تھا کہ'' آپ ہرسن رسیدہ شخص کو اپنا والد،ہرجوان کو بمنزلہ بھائی یا بیٹااور ہر عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن سمجھیں ،پھر انہیں رشتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔''ہارون رشید نے عرض کی ، ''کچھ اور بھی ارشاد فرمائیں۔''آپ نے فرمایا،''مجھے خوف ہے کہ کہیں تمہاری حسین وجمیل صورت نار ِجہنم کا ایندھن نہ بن جائے ،کیونکہ بہت سے حسین چہرے ،بروز قیامت آگ میں جاکر تبدیل ہوجائیں گے،وہاں بہت سے امیر ،اسیر ہوجائیں گے۔اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔محشر میں جواب دہی کے لئے ہر لمحہ چوکس رہو کیونکہ وہاں تم سے ایک ایک مسلمان کی بازپرس ہوگی۔اگر تمہاری سلطنت میں ایک غریب عورت بھی بھوکی سو گئی ،تو بروز قیامت تمہارا گریبان پکڑے گی۔''