ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید نے اپنے وزیر فضل یرمکی کے سامنے، کسی ولی کامل سے ملاقات اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔فضل جانتا تھا کہ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ ولایت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں،لھذا ہارون کو آپ کی بارگاہ میں لے آیا۔
جب یہ دونوں دروازے کے باہر پہنچے ،تو اندر سے حضرت کے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔آپ یہ آیتِ پاک تلاوت فرما رہے تھے،''اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُواالسَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔
ترجمہ کنزالایمان : کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے ۔''(پ۲۵،سورۃ الجاثیۃ:۲۱)
یہ آیتِ کریمہ سن کر ہارون نے کہا،''اس سے بڑھ کر اور کون سی نصیحت ہو سکتی ہے۔''پھر فضل نے دروازے پر دستک دی۔اندر سے دریافت کیا گیا ، کون؟...فضل نے کہا،''امیر المؤمنین تشریف لائے ہیں،آپ سے ملاقات کےمُتَمَنِّی ہیں۔''حضرت فضیل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواب دیا،''ان کا میرے پاس کیا کام اور میرا ان سے کیا واسطہ؟آپ حضرات میری مشغولیت میں خلل نہ ڈالیں۔''فضل بولا،''اگرآپ اجازت نہ دیں گے، تو ہم بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں گے۔''اندر سے جواب